اجکل بعض لوگ بات بات پر علماۓ کرام کے بارےمیں توہین آمیز کلمات بک دیا کرتے ہیں ۔ مثلا کہتے ہیں ، بھئی زارا بچ کے رہنا علامہ صاحب ہیں ۔علما لالچی ہوتے ہیں ،ہم سے جلتے ہیں ،ھماری وجہ سے اب ان کا کوئی بھاؤ نہیں پوچھتا ،چھوڑو چھوڑو ۔ یہ تو مولوی ہے معاز اللہ عالم کو بعض لوگ حقارت سے کہ دیتے ہیں ۔ یہ ملا لوگ ۔ علماء نے معاز اللہ سُنیت کا کوئی کام نہیں کیا ۔ بعض اوقات مبلغ کا بیان سُن کر نا پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوۓ معاز اللہ کہ دیا جاتا ہے ۔فلاں کا اندازِ بیان تو مولویوں والا ہے۔ وغیرہ وغیرہ
عالم کی توھین کب کفر ہے اور کب نہیں
عالم کی توھین کی تین صورتیں اور ان کے بارے میں حکمِ شرعی بیان کرتے ہوۓ میرے آق اعلٰی حضرت اِمام اہلسنت مولنا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الحمن فتاوی رضویہ جلد 21 صفحہ 129 پر فرماتے ہیں
اگر عالمِ دین کو یس لیے بپرا کہیا ہے کہ وہ عالم ہے جب تو صرہح کافر ہے
اگر بوجہ عِلم اپس کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی ک،سی دپنیوی خصومت ےعنی دشمنی کے باعث بُرا کہتا ہے گالی دیتا ہے اور تحقر کرتا ہے تو سخت فاسق فاجر ہے
اگر بے سبب رنج یعنی بعض رکھتا ہے تو مریض القلب و خبیث الباطن یعنی دل کا مریض اور ناپاک باطن والا ہے اور اُس یعنی خواہ مخواہ بعض رکھنے والے کے کفر کا اندیشہ ہے
خلاصہ میں ہے ۔
مَن اَبغَضَ عَا لمِاََ مِّن غَیرِ سَبَبِِ ظَا ھِرِِ خِیفَ عَلیہِ الکُفر
یعنی جو بلا کسی ظاہری وجہ کے عالم ِ دین سے بغض رکھے اُس پر کفر کا خوف ہے
(344 کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ۔ ص