روزہ دار کتنا خوش نصیب ہے کہ ہر وقت اللہ عزوجل کی رضا حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کے افطار کے وقت وہ جو دعا بھی 
مانگتا ہے اللہ عزوجل اسے اپنے فضل و کرم سے قبول فرما تا ہے -

چناچہ سید نا عبداللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا
 فرمان دلنشین ہے ،

.ترجمہ 


بیشک روزہ دار کے لیے افطار کے وقت ایک ایسی دعا ہوتی ہے جو رد نہیں کی جاتی

(  الترغیب والترھیب ج 2 ص 53 حدیث 29 )


سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ تاجدار رسالت حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان پر

 عظمت ہے ، تین شخصوں کی دعا رد نہیں کی جاتی


1-  روزہ دار کی بوقت افطار


2-  عادل  بادشاہ کی


3-   مظلوم کی


ان تینوں کی دعا اللہ پاک بادلوں سے اوپر اٹھا لیتا یے اور آسمان کے دروازے اس کے لیے کھل جاتے ہیں اور اللہ عزوجل فرماتا

 ہے ، " مجھے میری عزت کی قسم میں تیری ضرور مدد فرماوں گا اگرچہ کچھ دیر بعد ہو - "


( سنن ابن ماجہ ج 2 ص 349 حدیث 1852 )