صدقہ فطر واجب ہے
سرکار مدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ جا کر مکہ معظمہ کے گلی کوچوں میں اعلان کر دو  صدقہ فطر واجب ہے

خضرت سیدنا عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے  صدقہ فطر مقرر فرمایا تاکہ فضول اور بیہودہ کلام سے روزوں کی طہارت یعنی  صفائی ہو جائے. نیز مساکین کی خوراک کا انتظام بھی ہو جائے
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں .جب تک صدقہ فطر ادا نہیں کیا جاتا .بندے کا روزہ زمین و آسمان کے درمیان معلق رہتا ہے

صدقہ فطر ان تمام مسلمان مرد اور عورت پر واجب ہے جو  صاحب نصاب ہوں
اور صدقہ فطر واجب ہونے کے لیے  عاقل و بالغ کا ہونا  ضروری نہیں  یہ بچے اور  مجنون پر بھی واجب ہے ان کا سر پرست ان کی طرف سےصدقہ فطر ادا کرے گا

  بیوی یا بالغ اولاد جن کا نفقہ یعنی روٹی کپڑے وغیرہ کا خرچہ جس شخص کے زمہ ہے وہ اگر ان کی اجازت کے بغیر ہی ان کا فطرہ ادا کر دے تو ادا ہو جائے گا.اور جو شادی شدہ بیٹے ہیں جو اپنا خرچہ خود کرتے ہیں ان کا فطرہ بغیر اجازت ادا کر دیا تو ادا نہ ہو گا

عید الفطر کی صبح نماز سے پہلے   صدقہ فطر ادا کر دینا چاہیے .اگر رمضان میں ہی ادا کر دیا تو ادا ہو جا ئے گا

اگر عید کا دن گزر گیا اور صدقہ فطر ادا نہ کیا تب بھی صدقہ فطر ساقط نہ ہوا. بلکہ عمر بھر میں جب بھی ادا کریں ادا ہی ہے
جن کو زکواہ دے سکتے ان کو فطرہ بھی دے سکتے اور جن کو زکواہ نہیں دے سکتے ان کو فطرہ بھی نہیں دے سکتے
سادات کرام کو صدقہ فطرہ نہیں دے سکتے