حضرت شیخ العالم بابا فریدگنج شکرؒ کے 770 واں سالانہ عرس کی تقریبات پاکپتن میں بااہتمام اور زور و شور سے جاری ہیں‘ آج بہشتی دروازہ کھل چکا ہے۔ حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ سلسلہ چشتیہ کے تیسرے بڑے پیشوا ہیں‘ انہیں حضرت خواجہ بختیار کاکی نے خلافت عطا کی اور حضرت خواجہ بختیار کاکی کو خواجہ خواجگان سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری نے خلافت مرحم فرمائی تھی اور بعد ازاں حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ نے حضرت نظام الدین اولیاءکو خلافت عطا فرمائی۔ آپ کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ سلسلہ چشتیہ کے دور روحانی پیشوا حضرت خواجہ معین الدین چشتی ا جمیری اور حضرت خواجہ بختیار کاکی نے آپ کو بیک وقت ہاتھ پکڑ کر تصوف اور سلوک کی منازل طے کرائیں۔ آپ نے دارالحکومت یا کسی بڑے شہر کی بجائے ایک سنسان بے آباد دور افتادہ اور پسماندہ علاقے اجودھن کو اپنا مسکن بنایا اور یہاں رشد و ہدایت کی وہ شمع روشن کی جس نے پورے جنوبی پنجاب کو منور کر دیا اور اسی شمع کی کرنوں سے حضرت نظام الدین اولیاءاور حضرت صابر کلیر شریف نے دہلی اور برصغیر کو منور کیا۔

چور اندھا ہوگیا۔

آپ کی والدہ ماجدہ نہایت عابدہ‘ زاہدہ اور تہجد گزار خاتون تھیں‘ ایک رات وہ نماز تہجد ادا فرما رہی تھیں کہ اسی اثناءمیں ایک چور گھر میں داخل ہوگیا۔ اندر آتے ہی اس کی بینائی چلی گئی‘ وہ سخت پریشان اور دیواروں سے ٹکراتا رہا۔ اس نے گھبراہٹ میں آواز دی کہ اس گھر میں کوئی ایسی برگزیدہ ہستی ہے جس کی ہیبت سے میری بینائی چلی گئی ہے‘میں اس ہستی سے وعدہ کرتا ہوں کہ بینائی ملنے پر چوری سے تائب ہو جاﺅں گا۔ آپ کی والدہ محترمہ نے اس کی التجا پر خدا کے حضور دعا کی جس کے بعد چور کی آنکھیں پہلے کی طرح روشن ہوگئیں۔ اگلی صبح وہ چور اپنے اہلخانہ سمیت ان کے در پر حاضر ہوا اور اسلام قبول کر لیا۔ اس کا اسلامی نام عبداللہ رکھا گیا۔

بال کی کرامت:

شیخ المشائخ حضرت نظام الدین اولیا فرماتے ہیں: اجودھن میں حضرت بابا فرید گنج شکر کی خدمت اقدس میں حاضر تھا کہ اس اثناءمیں آپ کی داڑھی مبارک سے ایک بال گرا، جو میں نے فوراً اٹھا لیا اور آپ سے عرض کی کہ اگر اجازت مرحمت فرمائیں تو اسے تعویز بنا لوں، حضرت بابا فرید گنج شکر نے اجازت دے دی، میں نے اس بال مبارک کو با اہتمام کپڑے میں باندھ کر محفوظ کر لیا اور دہلی میں جو کوئی بھی بیمار میرے پاس آتا اسے یہ تعویز اس شرط پر دیتا کہ وہ درست ہونے کے بعد اسے واپس لوٹا دے گا، میں نے جسے بھی یہ تعویز دیا وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمیشہ صحت یاب ہوا۔ ایک مرتبہ میرے عزیز دوست تاج الدین مینائی کا لڑکا سخت علیل ہوا اور وہ یہ مبارک تعویز کے لئے حاضر ہوئے لیکن حکم خدا سے تلاش کرنے کے باوجود بھی طاق میں رکھا، یہ تعویز مجھے نہ ملا اور تاج الدین کا صاحبزادہ انتقال کر گیا، کچھ عرصہ بعد ایک اور صاحب تعویز کے لئے آئے تو یہ تعویز وہیں طاق سے فوراً مل گیا چونکہ تاج الدین کے بیٹے کی قسمت میں شفا نہ تھی اسی لئے یہ مبارک تعویز وہاں سے گم ہو گیا اور بعد ازاں وہیں سے مل گیا۔

زمین کی شہادت :

ایک شخص نے حاکم شہر کے ہاں آپ کی اراضی پر ملکیت کا ناجائز دعویٰ دائر کر دیا، حاکم نے آپ کو ملکیتی ثبوت کرنے کا پیغام بھجوا دیا، آپ نے کہلایا کہ لوگوں سے پوچھ لو یہ زمین کس کی ہے، حاکم شہر جواب سے مطمئن نہ ہوا اور ثبوت پیش کرنے کا تقاضا کیا تو آپ نے فرمایا کہ اس گردن شکستہ کو کہہ دو کہ میرے پاس کوئی سند ملکیت نہیں اور نہ ہی کوئی گواہ پیش کروں گا، اگر ملکیت تحقیق ہی درکار ہے تو اس خطہ زمین سے پوچھ لیا جائے کہ وہ کس کی ملکیت ہے، حاکم یہ جواب سن کر سخت حیران ہوا اور اس دعویٰ کی حقیقت جاننے کے لئے مذکورہ قطعہ اراضی پر پہنچ گیا، اس اثناءمیں لوگوں کا جم غفیر بھی وہاں جمع ہو گیا، حاکم نے مذکورہ قطعہ اراضی سے دریافت کیا کہ ہاں تو بتا کہ تیرا مالک کون ہے؟ زمین نے با آواز بلند جواب دیا، حضرت شکر گنج کی ملکیت ہوں اور ایک عرصہ سے ان کے قبضہ میں ہوں، قطعہ زمین کی یہ بانگ دہل گواہی سن کر لوگ سخت متعجب ہوئے، ادھر حاکم شہر جب گھوڑے پر سوار ہو کر پہنچا اور گھوڑے سے اترتے ہوئے سر کے بل گرنے سے اس کی گردن ٹوٹ گئی اور حضرت کی زبان مبارک سے گردن شکستہ کا جملہ پورا ہو گیا۔

حضرت شکر گنجؒ کی شاعری ”گرنتھ صاحب“ کا حصہ:
حضرت بابا فریدؒ کو پنجابی زبان کا پہلا شاعر مانا جاتا ہے، یوں تو آپ کو عربی اور فارسی پر بھی مکمل عبور تھا لیکن اس کے باوجود آپ نے شاعری کے لئے مقامی زبان پنجابی کو ذریعہ اظہار بنایا تاکہ ناصرف یہاں کے لوگوں کے دلوں کی ترجمانی ہوسکے بلکہ پنجابی شاعری کے ذریعہ ان کے دلوں میں گھر بھی کیا جاسکا۔ حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کی شاعری اس قدر مقبول ہوئی کہ سکھوں نے اپنی مذہبی کتاب ”گرنتھ صاحب“ میں بھی اسے شامل کرلیا اور ان کے تیس اشعار گرنتھ صاحب میں شامل ہیں ان کے یہ اشعار شلوک فرید اور بول فرید کے نام سے گرنتھ صاحب میں شامل ہیں۔
حضرت نظام الدین اولیاءسے محبت و شفقت:
حضرت محبوب الٰہی، سلطان جی، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءجب پہلی مرتبہ آپ کے پاس حاضر ہوئے تو انہیں دیکھتے ہی آپ نے بے ساختہ یہ شعر کہا جو آج بھی آپ کے مزار مبارک کی بیرونی دیوار پر درج ہے۔
اے آتش فراقت دل ہا کباب کردہ
سیلاب اشتیاقت جاں ہا خراب کردہ
”تیری آتش فراق نے دلوں کو کباب بنا دیا ہے اور تیرے اشتیاق کے سیلاب نے جانوں کو ویران کردیا ہے“۔

5 محرم الحرام 1265ء سن عیسوی بمطابق 666ھ 92 سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کا مزار شہنشاہ محمد بن تغلق نے تعمیر کروایا جو آپ کے مرید تھے
حضور بابا صاحب نے سخت بے چینی اور تکلیف میں گزارا۔ مگر تمام نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کیں اور تمام وظائف بھی پورے کئے پھر عشاء کی نماز جماعت سے پڑھ کر آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی ۔کچھ دیر کے بعد ہوش آیا تو آپ نے مولانا بدر الدین اسحاق سے پوچھا کے میں نے عشاء کی نماز پڑھ لی  ہے۔مولانا بدر الدین اسحاق نے جواب دیا حضور عشاء کی نماز  وتر کے ساتھ ادا کر چکے ہیں ۔اس کے بعد آپ پھر بے ہوش ہوگئے جب ہوش آیا تو فرمایا  کہ میں  دوسری مرتبہ نماز ادا کرو ں گا خدا جانے پھر یہ موقع ملے یا نہ  ملے۔مولانا بدر الدین کہتے ہیں کہ اس رات آپ نے تین مرتبہ  نماز عشاء ادا کی۔ پھر آپ نے وضو کے لیے پانی منگوایا۔وضو کیا دو گانہ ادا فرمایا پھر سجدے میں چلے گئے اور سجدے میں ہی آہستہ آواز سے یاحیی یا قیوم پڑھتے آپ واصل حق الحبیب ہوگئے