رحم کر کبریا اے ہمارے اللہ
دے رہے ہیں صدا اے ہمارے اللہ

ہم گناہگار تو مولا غفار ہے
ہم خطا کار تو مولا ستار ہے
بخش جرم و خطا اے ہمارے اللہ

حال ہر ایک کا تجھ پہ ظاہر ہے سب
جو پکاریں تجھے میرے رب میرے رب
ہو سبھی کا بھلا اے ہمارے اللہ

کتنے لا چار ہیں اور مجبور ہیں
زندہ ہیں زندگی سے بہت دور ہیں
غفلتوں سے جگا اے ہمارے اللہ

قید غم میں گھرے بندے آزاد ہوں
مبتلائے الم سب کے سب شاد ہوں
مولا خوشیاں دکھا اے میرے اللہ

تیری ہم بندگی دل سے کرتے رہیں
جن سے راضی ہو تو کام ایسے کریں
ہم کو محض   بنا اے ہمارے اللہ

تجھ کو تیری کریمی کا ہی واسط
تجھ کو تیری رحیمی کا ہی واسط
پائیں تیری رضا اے ہمارے اللہ

چاہے دولت نہ دے کوئی شہرت نہ دے
یا الہی ہمیں جاہ و حشمت نہ دے
دے دے اپنی ولا اے ہمارے اللہ