ہمارے صحابہ کرام علیہم الرضوان .آقا نامدار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی محبت میں گم رہا کرتے تھے .دنیا کی کوئی کشش 

اور بے وفا معاشرے کی جھوٹی مروت ان سے سنت نہیں چھڑا سکتی تھی

چنانچہ حضرت سیدنا حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معقل بن یساررضی اللہ تعالی عنہ( جو کہ مسلمانوں    

 کے سردار تھے ) کھانا کھا رہے تھے کہ ان کے ہاتھ سے لقمہ گر گیا .انہوں نے اٹھا لیا اور صاف کر کے کھا لیا یہ دیکھ کر 

گنواروں نے آنکھوں سے ایک دوسرے کو اشارہ کیا کہ کتنی عجیب بات ہے کہ گرے ہوئے لقمہ کو انہوں نے  کھا لیا .کسی نے
آپ رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا " اللہ عزوجل امیر کا بھلا کرے ، اے ہمارے سردار . یہ گنوار ترچھی نگاہوں سے اشارہ کر ہیں 
کہ امیر صاحب رضی اللہ تعالی عنہ نے گرا ہوا لقمہ کھا لیا ہے . حالانکہ ان کے سامنے یہ کھانا موجود ہے . " انہوں نے فرمایا . 

" ان عجمیوں کی وجہ سے میں اس چیز کو نہیں چھوڑ سکتا جسے میں نے سرکار مدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے سنا ہے 

کہ  لقمہ گر جائے تو اسے صاف کر کے کھا لیا جائے شیطان کے لیے نہ چھوڑا جائے ."

آج سے سب عہد کریں کے جو روٹی کا ٹکرا گرا ہو اٹھا کے کھا لیں گے ثواب کی نیت سے .

طالب مغفرت ہوں یا اللہ

بحش دے بہر مصطفے یا رب